اگر آپ "شہادت مولا علی" کی تفصیل چاہتے ہیں تو حضرت علیؑ کی شہادت کا واقعہ اسلامی تاریخ میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔
شہادتِ حضرت علیؑ کا پسِ منظر
حضرت علی ابن ابی طالبؑ، جو چوتھے خلیفۂ راشد اور دامادِ رسولؐ تھے، 19 رمضان 40 ہجری کو فجر کی نماز کے دوران مسجد کوفہ میں ایک خارجی عبدالرحمٰن ابن ملجم کے حملے میں شدید زخمی ہوئے۔ ابن ملجم نے زہر آلود تلوار سے حضرت علیؑ کے سر پر وار کیا، جس کے نتیجے میں 21 رمضان کو آپؑ کی شہادت واقع ہوئی۔
شہادت کی تفصیلات
- حضرت علیؑ پر حملہ اس وقت ہوا جب آپؑ فجر کی نماز کے لیے سجدے میں تھے۔
- ابن ملجم نے زہر آلود تلوار سے آپؑ کے سر پر وار کیا، جس سے زخم بہت گہرا ہوگیا۔
- دو دن شدید تکلیف میں گزارنے کے بعد 21 رمضان المبارک کو آپؑ نے وصیت کی اور جام شہادت نوش فرمایا۔
- آپؑ کو نجف اشرف (موجودہ عراق) میں دفن کیا گیا، جہاں آج بھی مزار مقدس موجود ہے۔
حضرت علیؑ کی وصیت
آپؑ نے اپنی شہادت سے قبل تقویٰ، عدل و انصاف، اور یتیموں و مساکین کے حقوق کی پاسداری کی تلقین فرمائی۔ آپؑ کا مشہور قول:
"فزتُ وربِّ الکعبہ" (ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا)
Ad

